امریکا کے ہر دلعزیز عالمی شہرت یافتہ جج فرینک کیپریو انتقال کرگئے

واشنگٹن:امریکا کے ہر دلعزیز عالمی شہرت یافتہ جج فرینک کیپریو انتقال کرگئے۔

سابق چیف جج فرینک کیپریو اپنے فیصلوں میں انسانی ہمدردی کے جذبات اور سائلین کی مدد کے جذبے کے باعث مشہور تھے، امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس کے فرینک کیپریو طویل عرصے سے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے، ان کی عمر 88 برس تھی۔

فرینک کیپریو کے سوشل میڈیا میڈیا اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں ان کے انتقال کی خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ فرینک کیپریو 88 برس کی عمر میں لبلبے کے کینسر سے ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

پیغام میں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ ایک معزز جج کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک محبت کرنے والے انسان کے طور پر یاد کئے جائیں گے، انتقال سے پہلے فرینک کیپریو نے ہسپتال میں بستر مرگ سے اپنے چاہنے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے لیے دعا کریں۔

واضح رہے کہ فرینک کیپریو جن مقدمات کی سماعت کرتے تھے وہ سوشل میڈیا پر دکھائی جاتی تھیں اور ان کے فیصلوں کا انداز انتہائی متاثر کن ہوتا تھا۔

واضح رہے کہ سماعت کے دوران جج کیپریو گہرائی میں جاکر یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ جرم سرزد کیوں ہوا اور فیصلہ ایسا سناتے جس سے مجرم زندگی میں کبھی دوبارہ اس کام کا تصور بھی نہ کرے۔

یہی وجہ تھی کہ لوگ ان کے فیصلوں کو جاننا چاہتے اور مقدمات کی سماعت سوشل میڈیا پر ان ممالک میں بھی وائرل ہوتی جہاں امریکی حکومت کو پسند نہیں کیا جاتا تھا، سوشل میڈیا پر ان کے لاکھوں فالوروز تھے۔

جج کیپریو کے انتقال پر گورنر ڈین مک نے پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے، گورنر کا کہنا تھا کہ 35 برس تک کمرہ عدالت میں خدمات انجام دینے والے فرینک کیپریو ایک خزانہ تھے جنہوں نے یہ عملی طور پر ثابت کیا کہ اگر انصاف کو انسانیت سے جوڑ دیا جائے تو کیا کیا چیزیں ممکن ہوسکتی ہیں۔

ایمی ایوارڈ کیلئے نامزد شو Caught in Providence میں برسوں تک ان کی خدمات دکھائی جاتی رہی تھیں جن میں انسان دوستی سے متعلق ان کے فیصلوں کے سبب وہ دنیا کے سب سے اچھے جج کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں