علی لاریجانی کی شہادت نے جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی ممکنہ راہ بند کر دی
تہران : بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت نے جنگ کے خاتمے کیلئےمذاکرات کی ممکنہ راہ بند کر دی کیونکہ ان جیسے رہنما مستقبل میں مذاکرات کا راستہ ہموار کر سکتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ سفارتی حل کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علی لاریجانی کو ایرانی نظام میں بااثر اورتوازن قائم رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا، وہ واحد شخصیت تھے جو مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
الجزیرہ کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف ایک سخت گیر نظریاتی رہنما تھے بلکہ ضرورت پڑنے پر سفارت کاری اور گفت و شنید کا فن بھی جانتے تھے۔ ان کی عدم موجودگی سے ایرانی نظام میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا فی الوقت ناممکن نظر آتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ علی لاریجانی جیسے تجربہ کار سیاستدان کی شہادت اس وقت ہوئی جب خطے کو کسی ایسے مدبر کی ضرورت تھی جو جنگ کی آگ بجھانے میں مدد کر سکے، اب ان کے جانے سے کشیدگی میں کمی کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اور خطہ ایک طویل اور غیر یقینی جنگ کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔




