جنگ کا خاتمہ ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر خارجہ کا بڑا بیان
تہران (10 مارچ 2026): ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر خارجہ کمال خرازی نے جنگ کے خاتمے سے متعلق بڑا بیان دے دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر خارجہ کمال خرازی نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سفارت کاری کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم اگر جنگ کو کوئی ختم کر سکتا ہے تو وہ معاشی درد ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ ہی امریکا اور اسرائیل کو جارحیت سے روک سکتا ہے۔ دیگر ممالک پر معاشی دباؤ بڑھا تو وہ تنازع کے خاتمے کے لیے مداخلت کر سکتے ہیں۔ دیگر ممالک گارنٹی دیں کہ امریکا اور اسرائیل جارحیت نہیں کرے گا تو شاید معاملہ حل ہو۔
کمال خرازی نے کہا کہ امریکا جھوٹا بیانیہ بنا رہا ہے کہ ایرانی عسکری طاقت کمزور پڑ گئی ہے۔ ایرانی افواج اس وقت بھی طاقت رکھتی ہیں اور ہم تو امریکا کے خلاف طویل عرصہ تک جنگ کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دفاعی صلاحیت کے لیے ایران کسی اور ملک پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اسلحہ اور بارود خود بناتا ہے۔ ایرانی افواج کے پاس ضرورت کا تمام اسلحہ موجود ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا مطلب ہے کہ ایرانی نظام کام کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل جب سمجھ جائیں گے کہ انکی حکمت عملی کام نہیں کر رہی تو یہ گیم کا اینڈ ہوگا۔ آخر میں امریکا اور اسرائیل کو ایران کے خلاف جارحیت کو روکنا ہی پڑے گا۔




