سندھ بجٹ، وزیراعلیٰ کا تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ آئندہ مالی سال27-2026ءکا3 ہزار 562 ارب روپے کا بجٹ پیش کر رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے، تعلیم کیلئے 620 ارب جبکہ صحت کیلئے 393 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کےکرم سے آج 13ویں مرتبہ سندھ کا بجٹ پیش کر رہا ہوں، مسلسل 11 بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے، کسی اور منتخب عوامی نمائندے کو مسلسل اتنی بار بجٹ پیش کرنے کا موقع نہیں ملا، اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں،ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی میری رہنمائی کرتی ہیں،سندھ کے عوام کی خدمت کے سفر میں اہلِخانہ کی قربانیوں اور تعاون کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور سماجی انصاف کی بنیادوں کو مضبوط کیا، بینظیر بھٹوکی جرات اور قربانیاں آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں، صدرمملکت کی رہنمائی اور مستقل حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں، بلاول بھٹو کا عوام دوست ترقی،سماجی انصاف کا وژن ترجیحات کا محور ہے، ہاریوں،محنت کشوں،خواتین اور نوجوانوں کی فلاح ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو قربانیوں اور خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا، پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں، پاکستان خطے میں امن،استحکام،اصولی سفارت کاری کی مضبوط آوازبن کرابھرا، ایران بحران کے دوران پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خطےمیں امن اور مکالمے کا داعی ملک ہے، سندھ کے باہمت اور ثابت قدم عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام کےلیے260ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا، 260ارب روپے کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے اپنے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا، سندھ نے قومی مفاد میں کردار ادا کیا مگر این ایف سی ایوارڈ کے تحت حقوق پر سمجھوتا نہیں کیا،سندھ کی عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا، سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی دونوں کوساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی۔

بجٹ تقریر

وزیراعلیٰ سندھ نے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہاہے جبکہ صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جارہی ہے ۔

بجٹ کا خسارہ 36.9 ارب روپے متوقع ہےجبکہ آمدنی 3.525 کھرب روپے رکھی گئی ہے، سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے، وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا، وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی۔

پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی، زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا، نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے، لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے ، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے ، آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے ، تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے، ، زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں ‘سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر’ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کے عزم کا اظہار کیا ۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی، شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کرے گا، پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے، کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا، کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا، ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے، پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز بنا رہے ہیں، شہر کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کیا جا رہا ہے،ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کو قابلِ تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے،پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے شہر کراچی میں’سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر‘ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا مرکز ہوگا۔

عالمی سرمایہ کاری کے لیے ‘سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو’ کے آغازکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی، 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے، غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کسان دوست وژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے، ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا، سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں، ہم سندھ کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے، سندھ حکومت کا اگلا مرحلہ فلاح سے خوشحالی اور خوشحالی سے معاشی قیادت کی جانب سفر ہے۔

گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ کیے،شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ناگزیر ہے، 60.7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہِ بھٹو عوام کے لیے بڑی سہولت ہے، 39 کلومیٹر طویل جدید کوریڈور قیوم آباد سے ایم نائن موٹروے سے منسلک کرتا ہے، شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے، کراچی کا پہلا بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا۔ شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا، شاہراہِ بھٹو منصوبے سے شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بچت میں نمایاں بہتری آئی ہے، شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے،بڑی شہری شاہراہوں کو جدید طرز پر استوار کرنا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

سال 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے ‘سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام’ کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کئے گئے، عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کر لیے گئے، سیلاب متاثرین مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا،صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کا منصوبہ ہے ۔

1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا، محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں، نوجوانوں کی امیدیں اور امنگیں ہمیں بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے متحرک رکھتی ہیں، ٹیکنالوجی بیسڈ پولیسنگ سے کراچی میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں 67 فیصد کمی آئی ہے، کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 54 فیصد کمی آئی، ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں میں بھی واضح کمی آئی ہے،سندھ بجٹ شہریوں کے تحفظ، انسانی ترقی اور روشن مستقبل کی تعمیر کا عکاس ہے، ہر بچے کو تعلیم، ہر شہری کو صحت اور ہر نوجوان کو مواقع میسر کرنا پیپلز پارٹی کا وژن ہے، سندھ حکومت کے بجٹ سے ہر ضلع کو خوشحالی اور ترقی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔

سندھ کاآئندہ مالی سال کا بجٹ 35 سو 62 ارب روپے سے زائد کا ہو گا، ترقیاتی بجٹ کی مد میں 720 ارب روپے ، تعلیم کیلئے 620 ارب روپے،صحت کیلئے 393 ارب سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے ۔

تھرکول کے لئے 10 ارب روپے،لیاری پیکج کیلئے 4 ارب روپے رکھنے ، شہید بے نظیر آباد ٹراما سینٹر کیلئے4ارب روپے ، کے ایم سی کے محکمہ فائربریگیڈ کی اپ گریڈیشن کے لیے 3.8 ارب روپے ، ریسکیو 1122 کے لئے 1 ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔

سندھ کے بجٹ میں کراچی یلولائن منصوبے کے لئے 22 ارب رکھے گئے ہیں جبکہ آئندہ مالیاتی سال کے لئے 555 ارب روپےجمع کرنے ، محکمہ ریونیو 42 ارب،سندھ ریونیوبورڈ 455 ارب جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیاہے ۔

سندھ ترقیاتی بجٹ کا حجم 385 ارب مختص کرنے کی تجویز،ضلعی اے ڈی پی کیلئے 15ارب مختص کرنے ، ایس آئی یو ٹی کو 26 ارب کی گرانٹ فراہم کرنے ، ترقیاتی بجٹ میں 29 فیصد کمی،720ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے ۔

اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 142 ارب روپے رکھا گیا ہے، تعلیم کیلئے 620 ارب روپے،صحت کیلئے 393 ارب ، بلدیات کے لئے 155 ارب روپے،زراعت کے لئے 41 ارب روپے امن وامان کے لئے 222 ارب روپے مختص کیے گئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں