ہیلی کاپٹر حادثہ: ایرانی صدر کی تلاش جاری، ریسکیو آپریشن میں روس اور ترکیہ بھی شامل

تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کا تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا، ریسکیو آپریشن میں ایران کے ساتھ روس اور ترکیہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی آذربائیجان سے منسلک ایرانی سرحد پر ڈیم کا افتتاح کرنے بعد واپس تبریز آ رہے تھے کہ موسم کی خرابی کے باعث ان کے ہیلی کاپٹر کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی، ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر کے علاوہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان صوبے کے گورنر ملک رحمتی سمیت دیگر اہم حکام سوار تھے۔

ہنگامی لینڈنگ کے بعد ہیلی کاپٹر کی تلاش تاحال جاری ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، آپریشن میں 6 صوبوں تہران، البورض، اردبیل، مشرقی آذربائیجان اور مغربی آذربائیجان سے امدادی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، ایرانی فوجی دستے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں، اس کے علاوہ آپریشن میں ترکیہ کے ریسکیو اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

ترکیہ نے ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کیلئے خصوصی طور پر پہاڑوں میں ریسکیو آپریشن کرنے والی ٹیم بھیجی ہے، ترکیہ کی ٹیم 32 ریسکیو ماہرین پر مشتمل ہے، ترکیہ کی ریسکیو ٹیم نائٹ ویژن آلات اور سہولتوں سے لیس ہے، 47 روسی ماہرین ہیلی کاپٹر کی کھوج پر مامور تھے۔

ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں یورپی کمیشن بھی پیش پیش ہے، یورپی کمیشن نے سیٹلائٹ میپنگ سروس کو فعال کر دیا، سیٹلائٹ میپنگ سروس ایکٹیویٹ کرنے کا قدم ایران کی درخواست پر اٹھایا گیا، ہیلی کاپٹر کو ڈھونڈنے میں سیٹلائٹ سے مدد لی جائے گی۔

ایران کے نائب صدر برائے ایگزیکٹو امور محسن منصوری نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے وفد میں شامل دو افراد کے ریسکیو ٹیم سے رابطہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے ہیلی کاپٹر کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی جگہ کا تعین کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامہ ای کی زیر صدارت سپریم کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ ایرانی شہر مشہد میں امام علی رضا کے روضہ پر شہریوں نے ایرانی صدر کی سلامتی کیلئے دعائیں کیں۔

ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی جگہ سے آنے والی خبریں تشویشناک ہیں، ایرانی صدر کے کارواں میں 3 ہیلی کاپٹر شامل تھے، دو بحفاظت پہنچ گئے، تیسرا لاپتہ ہے، صدر کے ساتھیوں کیساتھ رابطے میں ہیں، حادثہ پہاڑی مقام پر پیش آیا جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

قبل ازیں ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ابراہیم رئیسی کا حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر مل گیا ہے تاہم ایرانی ہلال احمر نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری 15 ٹیمیں سراغ رساں کتوں کے ساتھ ساتھ ڈرون کی مدد سے علاقے میں تلاش کا کام کر رہے ہیں۔

ایرانی ہلال احمر کا مزید کہنا تھا کہ خراب موسم اور علاقے میں بدترین دھند کی وجہ سے ہلال احمر کے امدادی ہیلی کاپٹرز مذکورہ علاقے میں پرواز نہیں کر پا رہے ہیں، اسی لیے امدادی ٹیمیں زمینی راستوں سے تلاش کر رہی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں