سندھ کی وحدت: تاریخ، شناخت اور وفاق کا سوال:—- تحریر: نثار بانبھن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ کی تقسیم کا سوال محض کوئی انتظامی تجویز، سیاسی نعرہ یا وقتی جذبات کا معاملہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی شعور، ایک زندہ تہذیبی شناخت اور ایسی اجتماعی یادداشت موجود ہے، جسے نظرانداز کرکے سندھ کے بارے میں کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ نہ مکمل سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی پائیدار۔
سندھ میں جب تقسیم کی بات ہوتی ہے تو ردِعمل صرف سیاست دانوں کے بیانات یا سیاسی جماعتوں کے احتجاج تک محدود نہیں رہتا۔ اس بحث کے ساتھ عام آدمی کا وہ احساس بھی جڑا ہوا ہے، جو اسے اپنی مٹی، اپنی زبان، اپنے دریا، اپنے شہروں اور اپنے تاریخی تسلسل سے جوڑ کر رکھتا ہے۔
سندھ کے لیے سوال یہ نہیں کہ انتظامی ضرورتوں کے تحت کسی علاقے میں بہتر حکمرانی کیسے قائم کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انتظامی اصلاح کے نام پر کسی تاریخی وحدت، تہذیبی شناخت اور صوبے کے وجود کو سیاسی طور پر کمزور کیا جاسکتا ہے؟ یہی بنیادی سوال ہے، جسے سمجھنے کے لیے سندھ کی تاریخ کو صرف چند دہائیوں کے حوالے سے نہیں بلکہ صدیوں کے پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔
سندھ صرف ایک انتظامی یونٹ نہیں۔ پاکستان کے موجودہ صوبوں کی جغرافیائی اور انتظامی شکل ہمیشہ ایسی نہیں رہی جیسی آج نظر آتی ہے۔ پنجاب مختلف تاریخی مراحل سے گزر کر اپنی موجودہ صورت تک پہنچا، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے بھی نوآبادیاتی اور سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں اپنی موجودہ انتظامی شکل اختیار کی۔
لیکن سندھ کے معاملے میں ایک اہم تاریخی تسلسل موجود ہے۔ سندھ میں مختلف خاندانوں اور سلطنتوں نے حکومت کی۔ رائے خاندان، برہمن دور، عرب حکمرانی، سومرا، سما، ارغون، ترخان، مغل، کلہوڑا اور تالپور حکمران بدلتے رہے، سیاسی طاقت کے مراکز تبدیل ہوتے رہے، لیکن سندھ کی جغرافیائی اور تہذیبی شناخت کا تصور ختم نہیں ہوا۔
کلہوڑا دور تقریباً 1701ء سے 1783ء تک اور تالپوروں کا دور 1783ء سے 1843ء تک رہا۔ حکمران بدلتے رہے، مگر مٹی کا نام نہیں بدلا۔ تخت بدلتے رہے، مگر دریا نے اپنا راستہ نہیں بھلایا۔ یہی سندھ کی تاریخی حساسیت کی بنیادی وجہ ہے۔
1843ء: تاریخ کا ایک اہم موڑ
سندھ کی جدید سیاسی تاریخ میں 1843ء ایک فیصلہ کن سال ہے۔ برطانوی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تالپوروں کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور سندھ برطانوی اقتدار کے زیرِ اثر آگیا۔ اس کے بعد سندھ کو بمبئی انتظامی ڈھانچے کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔
اس دور نے سندھ کے سیاسی شعور میں ایک نئی کیفیت پیدا کی: اپنی جداگانہ حیثیت کی بحالی کی جدوجہد۔ یہ جدوجہد صرف جذباتی نہیں تھی؛ اس کے پیچھے سیاسی نمائندگی، انتظامی خوداختیاری اور سندھ کی الگ شناخت کا سوال موجود تھا۔
آخرکار 1 اپریل 1936ء کو سندھ بمبئی پریزیڈنسی سے الگ ہوکر دوبارہ ایک جدا صوبہ بن گیا۔ یہ تاریخ سندھ کے لیے محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہے۔ یکم اپریل 1936ء وہ دن تھا جب ایک طویل رات کے بعد سندھ اپنے نام کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہوا۔
پھر 1947ء آیا۔ اس سے صرف گیارہ سال بعد برصغیر تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ یہاں سندھ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم باب شروع ہوتا ہے۔
سندھ نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی۔ بلکہ 3 مارچ 1943ء کو سندھ اسمبلی برصغیر کی پہلی صوبائی قانون ساز اسمبلی بنی جس نے پاکستان کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی۔
یہ حقیقت سندھ کے پاکستان کے ساتھ تعلق کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سندھ نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا، لیکن اس انتخاب کا مطلب اپنی تاریخی شناخت سے دستبردار ہونا نہیں تھا۔ یہ وفاقی تعلق کا انتخاب تھا، اپنی شناخت کے خاتمے کا نہیں۔
ہم نے ایک گھر بنانے کا فیصلہ کیا تھا، اپنا گھر گرانے کا نہیں۔ یہ فرق آج بھی سمجھنا ضروری ہے۔
ہجرت: درد کا احترام، تاریخ کا احترام
1947ء کے بعد لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے۔ یہ برصغیر کی تاریخ کی سب سے بڑی انسانی ہجرتوں میں سے ایک تھی۔ لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، خاندان بچھڑ گئے، گھر چھوٹ گئے اور یادیں سرحد کے دوسری جانب رہ گئیں۔
اس انسانی المیے کو کسی بھی سنجیدہ بحث میں معمولی نہیں سمجھا جاسکتا۔
سندھ نے بھی بڑی تعداد میں نئے آنے والے لوگوں کو اپنے شہروں میں جگہ دی۔ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری مراکز میں ہجرت کے بعد آبادی کا ایک بڑا تغیر آیا۔
یہاں ایک بنیادی اخلاقی اصول سامنے آتا ہے: ہجرت کے درد کا احترام اور میزبان دھرتی کی تاریخ کا احترام ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔
کسی انسان کا اپنے گھر سے بے گھر ہونا ایک انسانی المیہ ہے، لیکن اس المیے کو کسی تاریخی خطے کی پوری تاریخ 1947ء سے شروع کرنے کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔
جو لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ آئے، وہ اپنی یادیں، زبانیں، تجربات اور ثقافتی روایات ضرور اپنے ساتھ لائے، لیکن زمین، شہر، کھیت اور گھر جسمانی طور پر سرحد پار منتقل نہیں ہوئے۔
زمین بوری میں بند نہیں ہوتی۔ وطن سوٹ کیس میں نہیں آتا۔ کھیت کندھے پر اٹھا کر نہیں لے جائے جاسکتے اور شہر کسی قافلے کے ساتھ سرحد پار نہیں جاتے۔
یہ بات کسی کی ہجرت کے درد کو کم نہیں کرتی، بلکہ تاریخ کو اس کی مکمل پیچیدگی کے ساتھ سمجھنے کا تقاضا کرتی ہے۔
الاٹمنٹ، ملکیت اور احسان کو قبضے میں تبدیل نہ کریں
1947ء کے بعد متروکہ املاک، جائیدادوں کی منتقلی، الاٹمنٹ اور آبادکاری ایک پیچیدہ ریاستی اور قانونی عمل تھا۔ اسے صرف ’’کس نے کس کو زمین دے دی‘‘ جیسے سادہ بیانیے تک محدود کرنا تاریخی اور قانونی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔
لیکن اس پیچیدہ حقیقت کے باوجود ایک بنیادی اخلاقی سوال باقی رہتا ہے:
کسی کو گھر ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے شہر کی تاریخ کا مالک بن گیا۔
کسی کو روزگار ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ میزبان دھرتی کی شناخت ختم کرسکتا ہے۔ کسی کو شہریت ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس خطے کے تاریخی وجود سے انکار کرسکتا ہے۔
سندھ نے نئے آنے والے لوگوں کو اپنے شہری، معاشی اور سماجی نظام میں جگہ دی۔ وقت کے ساتھ یہ لوگ سندھ کے شہروں کی معیشت، تعلیم، صنعت، طب، ادب، تجارت اور شہری زندگی کا حصہ بن گئے۔ ان کی کئی نسلیں یہیں پیدا ہوئیں۔ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک دوسری حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے:
شہری شراکت اور تاریخی ملکیت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
کراچی میں رہنے والا ہر شہری کراچی کا برابر کا شہری ہوسکتا ہے، لیکن کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا سوال ایک الگ آئینی اور تاریخی سوال ہے۔
کراچی کس کا ہے؟
کراچی اس بحث کا سب سے حساس باب ہے۔
کراچی صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ سندھ کی تاریخی جغرافیائی وحدت کا بھی حصہ ہے۔ یہ بھی تاریخی طور پر اہم حقیقت ہے کہ کراچی پاکستان بننے کے بعد ملک کا پہلا دارالحکومت بنا، لیکن اس حیثیت نے کراچی کو سندھ کی جغرافیائی تاریخ سے الگ نہیں کیا۔
شہر کا قومی کردار اور صوبائی وابستگی ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔
کراچی پاکستان کا شہر ہے۔
کراچی سندھ کا شہر ہے۔
اور کراچی کے شہری پاکستان کے بھی شہری ہیں اور سندھ کی شہری زندگی کا بھی حصہ ہیں۔
یہی وفاق کی خوبصورتی ہے۔
ایک دریا ایک ہی وقت میں کئی کناروں کو سیراب کرسکتا ہے؛ اس سے دریا کسی ایک کنارے کا نہیں ہوجاتا۔
21 شہروں کا سوال
سندھ کے مختلف شہروں کو سندھ سے الگ کرنے کے مطالبات کے پس منظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی شہر کی موجودہ آبادی، زبان یا سیاسی اکثریت خود بخود اس شہر کو تاریخی طور پر کسی دوسرے صوبے کی ملکیت نہیں بنا دیتی۔
اگر آبادی کا تناسب ہی تاریخی حق کا واحد معیار بن جائے تو دنیا کے تقریباً ہر بڑے شہر کی تاریخ دوبارہ لکھنی پڑے گی۔
شہر تہذیبوں کے سنگم ہوتے ہیں۔ لوگ آتے ہیں، آباد ہوتے ہیں، ہجرت کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور نئی نسلیں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن شہر کی آبادی کا تبدیل ہونا لازمی طور پر اس کی تاریخی جغرافیائی شناخت کی تبدیلی نہیں ہوتا۔
اس لیے سندھ کے کسی بھی شہر کے مستقبل کا فیصلہ نفرت، آبادی کی طاقت یا سیاسی دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ آئین، قانون، جمہوری رضامندی اور تاریخی حقیقت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
آئین بھی ایک حد مقرر کرتا ہے
اس بحث کا ایک انتہائی اہم پہلو آئینی ہے۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیمی بل کو صدر کی منظوری کے لیے پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے اپنی کل رکنیت کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظور نہ کرے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی حدود کا سوال صرف کسی سیاسی جماعت کے منشور، جلسے یا نعرے سے حل نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک آئینی عمل ہے اور آئین خود صوبائی رضامندی کو اس عمل میں بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
یہی وفاقی نظام کی اصل خوبصورتی ہے۔
وفاق صرف مرکز کا نام نہیں؛ وفاق رضامندی کا دوسرا نام ہے۔
سندھ کو اپنی تاریخ ثابت کرنے کی ضرورت کیوں؟
سندھیوں کے لیے شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کبھی کبھی انہیں اپنی ہی دھرتی پر اپنی تاریخی موجودگی ثابت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یہ سوال ہی بنیادی طور پر غلط سمت میں جاتا ہے۔
سندھ کو اپنے وجود کے لیے کسی نئے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔
اس کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔
اس کا دریا اس کا گواہ ہے۔
اس کی تہذیب اس کی گواہ ہے۔
اس کے آثار اس کے گواہ ہیں۔
اس کی زبان اس کی گواہ ہے۔
اور صدیوں کا سیاسی تسلسل اس کا گواہ ہے۔
سندھ اسمبلی بھی اپنی سرکاری قراردادوں میں سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی وحدت کو صدیوں پر پھیلے ہوئے تسلسل کے طور پر بیان کرتی رہی ہے۔
اس لیے سندھیوں کو اپنی ہی دھرتی پر ’’غیر‘‘ ثابت کرنے کی کوشش ایک انتہائی حساس سیاسی اور اخلاقی مسئلہ بن جاتی ہے۔
مسئلہ انسانوں سے نہیں، تاریخی دعوے سے ہے
لیکن سندھ کی قومی اور جمہوری جدوجہد کو ایک انتہائی اہم اخلاقی فرق برقرار رکھنا ہوگا۔
مسئلہ کسی زبان بولنے والے انسان سے نہیں۔
مسئلہ کسی قوم یا برادری سے نفرت کا نہیں۔
مسئلہ تاریخی حق، سیاسی دعوے اور صوبائی وحدت کا ہے۔
1947ء کے بعد سندھ میں آنے والے لوگوں اور ان کی نسلوں میں بے شمار افراد نے سندھ کی معیشت، تعلیم، صنعت، طب، ادب، تجارت اور شہری زندگی میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہیں اجتماعی طور پر ’’قبضہ کرنے والے‘‘ یا کسی توہین آمیز لقب سے پکارنا نہ تاریخی انصاف ہے اور نہ سیاسی حکمت۔
اگر سندھ اپنی تاریخ اور شناخت کے احترام کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے دوسروں کی انسانی عزت کا احترام بھی اسی قوت کے ساتھ کرنا ہوگا۔
کیونکہ سندھ کی تہذیب کی اصل طاقت ہی یہ رہی ہے کہ اس نے مختلف لوگوں کو اپنے اندر جگہ دی ہے۔
سندھ کی عظمت اپنے دروازے بند کرنے میں نہیں بلکہ یہ طے کرنے میں ہے کہ گھر کس کا ہے اور گھر میں آنے والے کس عزت کے ساتھ رہیں گے۔
مہمان نوازی کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن رواداری کا مطلب خود کو بھلا دینا بھی نہیں ہے۔
سندھ مختلف ادوار میں مختلف قوموں اور ثقافتوں کو اپنے اندر جذب کرتا رہا ہے۔ سندھ کی تہذیب ہمیشہ ایک بہتے دریا کی طرح رہی ہے جو اپنے راستے میں آنے والے پانی کو اپنے اندر شامل کرتا ہے، لیکن اپنی شناخت نہیں کھوتا۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے:
اختلاط، شناخت کا خاتمہ نہیں۔
شہریت، تاریخی وجود کی منسوخی نہیں۔
رواداری، خود فراموشی نہیں۔
وفاق، صوبائی شناخت کا خاتمہ نہیں۔
جو سندھ کسی کو جگہ دیتا ہے، اس کے لیے اپنی جگہ سے دستبردار ہونا ضروری نہیں۔
تقسیم کا اصل خطرہ
سندھ کی تقسیم کا سوال صرف یہ نہیں کہ نقشے پر کتنی لکیریں کھینچی جائیں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اجتماعی نفسیات میں کیا ہوگا؟
کیا ایک صوبے کی تاریخی وحدت کو یہ پیغام ملے گا کہ اس کی جغرافیائی شناخت سیاسی طاقت کے دباؤ سے تبدیل کی جاسکتی ہے؟
کیا دوسرے صوبوں کی اکائیاں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی؟
کیا وفاق کے بارے میں اعتماد بڑھے گا یا کم ہوگا؟
کیا پاکستان کا تصور مختلف شناختوں کو ساتھ لے کر چلنے والے وفاق کا رہے گا یا آبادی اور سیاسی طاقت کے مقابلے میں تبدیل ہوتا جائے گا؟
یہ سوال صرف سندھ کے نہیں۔ یہ پاکستان کے وفاقی مستقبل کے سوالات ہیں۔
مضبوط پاکستان، مضبوط اکائیاں
پاکستان کی طاقت اس میں نہیں کہ اس کی اکائیاں اپنی شناخت بھلا دیں۔
پاکستان کی طاقت اس میں ہے کہ پنجاب اپنی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ، بلوچستان اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ، خیبر پختونخوا اپنی تاریخی اور لسانی شناخت کے ساتھ اور سندھ اپنی تہذیب، زبان، تاریخ اور جغرافیائی وحدت کے ساتھ وفاق کا حصہ رہے۔
وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کی اکائیاں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔
جس گھر میں ہر کمرے کو یقین ہو کہ اس کی دیواریں محفوظ ہیں، وہ گھر مضبوط ہوتا ہے۔ اور جس گھر میں ہر کمرہ یہ سوچنے لگے کہ اگلی صبح شاید اس کی دیوار بھی گرادی جائے گی، وہ گھر اندر ہی اندر کمزور ہونے لگتا ہے۔
سندھ کی وحدت: نفرت نہیں، شناخت کا حق
سندھ کی وحدت کے دفاع کو کسی دوسری قوم یا زبان کے خلاف نفرت میں تبدیل کرنا سندھ کے اپنے تاریخی مزاج کے خلاف ہوگا۔
سندھ کا موقف اس وقت زیادہ مضبوط ہوگا جب وہ کہے:
ہم کسی سے اس کا گھر نہیں چھینتے۔
ہم کسی کی زبان تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔
ہم کسی کی شہریت نہیں چھینتے۔
ہم کسی کی محنت سے انکار نہیں کرتے۔
ہم صرف یہ کہتے ہیں: سندھ کو سندھ رہنے دیں۔
اس کے شہروں کو اس کی تاریخ سے نہ کاٹیں۔ اس کی زبان کو اس کے گھر میں اجنبی نہ بنائیں۔ اس کے لوگوں کو ان کی اپنی دھرتی پر مہمان نہ کہیں۔
اور اگر کسی کو نئے انتظامی یونٹ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کے لیے آئین کا راستہ موجود ہے، لیکن یہ راستہ تاریخی تحقیر، لسانی نفرت اور سیاسی دباؤ سے نہیں بلکہ آئینی رضامندی سے گزرتا ہے۔
آخر میں
اگر سندھ کی تاریخ کو صرف 1947ء سے پڑھا جائے گا تو سندھ کا مقدمہ ادھورا سمجھا جائے گا۔
1843ء سے دیکھیں گے تو نوآبادیاتی قبضے کی کہانی سامنے آئے گی۔
1936ء کو دیکھیں گے تو اپنی جداگانہ صوبائی شناخت کی بحالی کی جدوجہد نظر آئے گی۔
3 مارچ 1943ء کو دیکھیں گے تو پاکستان کے قیام میں سندھ کا بنیادی سیاسی کردار سامنے آئے گا۔
اور 1947ء کو دیکھیں گے تو ہجرت، قربانی، آبادکاری اور ایک نئے ملک کے قیام کا عظیم انسانی باب سامنے آئے گا۔
ان تمام تاریخوں کو ایک ساتھ رکھیں تو ایک حقیقت واضح ہوجاتی ہے:
سندھ پاکستان کے قیام کا مخالف نہیں تھا؛ سندھ اپنی شناخت کے خاتمے کا بھی حامی نہیں ہے۔
یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں درست ہوسکتی ہیں۔
سندھ پاکستان کا حصہ ہے، لیکن سندھ صرف پاکستان کے نقشے پر موجود ایک رنگ نہیں۔
سندھ ایک تاریخی تہذیب ہے۔
ایک زبان ہے۔
ایک دریا ہے۔
ایک اجتماعی یادداشت ہے۔
ایک جغرافیہ ہے۔
ایک صدیوں پرانا نام ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ سندھ کی تقسیم کا سوال اتنا حساس ہے۔
اسے صرف سیاسی نعرے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کے لیے تاریخ پڑھنی ہوگی، آئین سمجھنا ہوگا، ہجرت کے درد کا احترام کرنا ہوگا، مقامی لوگوں کے تاریخی شعور کو تسلیم کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ وفاق طاقت سے نہیں، اعتماد سے قائم رہتا ہے۔
سندھ نے پاکستان کے وفاق کو قبول کیا تھا۔ اب وفاق کی ذمہ داری ہے کہ سندھ کے تاریخی وجود، صوبائی وحدت اور شناخت کے احساس کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سمجھے۔
کیونکہ آخر میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ نقشے پر کتنی لکیریں کھینچی گئیں۔
اصل سوال یہ ہوگا:
کیا ہم نے ایسا پاکستان بنایا جس میں ہر قوم اپنی شناخت اور اپنے نام کے ساتھ محفوظ رہ سکے؟
اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو سندھ کو تقسیم کرنے سے پہلے سندھ کے دل کو سمجھنا ہوگا۔
اور سندھ کے دل میں آج بھی ایک ہی بات گونجتی ہے:
ہم وفاق چاہتے ہیں، لیکن اپنی شناخت کے ساتھ۔
ہم پاکستان چاہتے ہیں، لیکن اپنی سندھ کے ساتھ۔
کیونکہ جو مٹی صدیوں سے اپنا نام محفوظ رکھتی آئی ہو، اس کے سینے پر چند سیاسی لکیریں کھینچنا صرف جغرافیہ تبدیل کرنا نہیں، بلکہ ایک قوم کی اجتماعی یادداشت کو زخمی کرنا ہے۔




