جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس، اراکین کا خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ
تہران: امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد ارکان نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔
مزید دریافت کریں
Newspapers
Language Resources
سیاسی تجزیہ
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 290 رکنی پارلیمنٹ میں سے 180 ارکان نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ موجودہ مفاہمتی یادداشت کو ختم کر کے نئی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ارکان کا مؤقف تھا کہ حالیہ واقعات کے بعد ایران کو اپنی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرنا چاہیے۔ History
یہ اجلاس تقریباً چار ماہ بعد منعقد ہوا، جس میں پارلیمانی قواعد و ضوابط میں بھی اہم ترامیم منظور کی گئیں۔ نئی ترامیم کے تحت مستقبل میں ہنگامی حالات یا غیر معمولی صورتحال کے دوران پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس منعقد کیے جا سکیں گے۔
مزید دریافت کریں
آن لائن اخبار
Textiles & Nonwovens
Geographic Reference
اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک مینجمنٹ سے متعلق ایک نیا بل بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے متعلق انتظامی اور سکیورٹی معاملات کو مزید مؤثر بنانا بتایا گیا۔
پارلیمنٹ میں موجود متعدد ارکان نے سید علی خامنہ ای کی شہادت کے انتقام کا مطالبہ کرتے ہوئے سرخ پرچم بھی اٹھائے، جسے ایران میں انتقام اور مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ارکان نے ایک خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جو مستقبل کی سفارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی مذاکرات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گا۔ History
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کا یہ اجلاس حالیہ جنگ کے بعد ایران کی داخلی سیاسی سمت اور آئندہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں سامنے آنے والے مطالبات آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔




