ایران پرعائد پابندیاں فوری طور پر نہیں ہٹائی جائیں گی، وزیرخارجہ اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےوضاحت کی ہےکہ ایران پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم نہیں کی جارہیں،کیونکہ امریکا اور ایران اسلام آباد معاہدے کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں،جس میں پابندیوں، ایران کا جوہری پروگرام اور لبنان سے متعلق معاملات ایک ساتھ زیر بحث آئیں گے۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈارنےعرب میڈیاکو انٹرویودیتےہوئےکہا امریکا ایران بات چیت میں تین تکنیکی گروپس شامل ہیں،نیوکلئیرفائل،منجمد اثاثوں اورلبنان کے معاملے پرغور ہوگا،ایران یورینیم ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے افزودگی کی سطح کم کرے گا۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نےکہاکہ مذاکرات کا اگلادورزیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے،مذاکرات کاروں کو کچھ معاملات پرکام مکمل کرنے کے لیے 30 دن کاوقت دیاگیاہے،وسیع ترمعاہدے کو 60 روزمیں حتمی شکل دینے کی امید ہے،بحیرہ ہرمز سےگزرنے والے جہازوں پرکوئی ٹرانزٹ یا سروس فیس نہیں ہوگی،آبنائےہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کیلئے60 روز کا وقت مقرر کیاگیا،
وزیرخارجہ نےکہا پاکستان کا اس معاملے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا،خالصتاً امت مسلمہ اور عالمی امن کیلئے ثالثی کا مخلصانہ کردار ادا کیا،یہ تاثر غلط ہےکہ پس پردہ کوئی خفیہ ڈیل ہوئی ہےجوکچھ ہے وہ تحریری اسلام آباد معاہدے کےاندر موجود ہے،باہمی رضامندی سےمدت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے،اسلام آباد معاہدے کی کاپیاں مصر،سعودی عرب اورترکیہ کوزرائے خارجہ سےشیئر کردیں،لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے سوئٹزر لینڈ مذاکرات چند دن تاخیرکاشکارہوئے۔
انہوں نےکہا کہ سفارتی کوششوں میں پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کومسلسل اعتماد میں رکھا، پاکستان،سعودی عرب،مصراور ترکیہ پرمشتمل آرفورفورم قائم ہوچکاہے،یہ فورم کسی قسم کا بلاک نہیں، آدھی ارب آبادی کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے،آرفور بحیرہ احمر،بحیرہ روم اور افریقا کو جوڑتا ہے، قطر،بحرین،کویت،اردن اور چین نےپاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی،یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان نے بھی ہماری امن کوششوں کی حمایت کی۔
وزیرخارجہ نےکہا قلیل مدتی جنگ کی وجہ سےعالمی سطح پر انرجی سپلائی چین بری طرح متاثرہوئی، جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنےلگیں،عالمی سطح پر شدید مہنگائی آئی اور دنیا کا تقریباً 20 سے 25 فیصد گلوبل جی ڈی پی کا نقصان ہوا،پاکستان نے عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے 3ہفتوں تک اربوں روپے کی بھاری پیٹرولیم سبسڈی دی۔




