روس نے 35 ہزار کلو میٹر مار کرنے والا طاقت ور ترین میزائل بنا لیا
ماسکو : روس نے 35 ہزار کلو میٹر مار کرنے والا طاقت ور ترین بیلسٹک میزائل ’’سرمت‘‘ بنا لیا ہے۔
ولادیمیر پیوٹن نے روس کے نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجرباتی لانچ کو سراہتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے طاقت ور میزائل قرار دے دیا، اس میزائل سے امریکا اور یورپ روس کی رینج میں آ گئے ہیں، صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل دنیا کے ہر دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق روس نے منگل کے روز اپنی جوہری قوت کو جدید بناتے ہوئے ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، چند روز قبل ہی پیوٹن نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین میں جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔
روسی سرمت بیلسٹک میزائل
پیوٹن نے بتایا کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا ’سرمت‘ میزائل رواں سال کے اختتام تک عملی سروس میں شامل کر دیا جائے گا۔ یہ میزائل پرانے سوویت دور کے ’’ووئیووڈا‘‘ میزائل کی جگہ لے گا۔ روسی صدر نے کہا یہ دنیا کا سب سے طاقت ور میزائل ہے، اور دعویٰ کیا کہ سرمت میزائل کے وار ہیڈز کی مجموعی طاقت کسی بھی مغربی ہم منصب کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہے۔
مغرب میں ’’شیطان II‘‘ کے نام سے معروف سرمت میزائل تقریباً 40 سوویت ساختہ ووئیووڈا میزائلوں کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری 2011 میں شروع ہوئی تھی اور منگل کے تجربے سے قبل اس میزائل کا صرف ایک کامیاب تجربہ سامنے آیا تھا، جب کہ 2024 میں ایک ناکام تجربے کے دوران بڑے دھماکے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
پیوٹن نے کہا کہ سرمت میزائل 2018 میں متعارف کرائے گئے نئے ہتھیاروں کے سلسلے کا حصہ ہے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ مستقبل کے کسی بھی امریکی میزائل دفاعی نظام کو ناکارہ بنا دیں گے۔ ان کے مطابق سرمت میزائل ووئیووڈا جتنا طاقت ور لیکن اس سے زیادہ درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔




