ایران جنگ کے معاشی اثرات، کچھ شعبے بڑے فاتح بن کر سامنے آگئے

تہران: امریکا ایران جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں ایک طرف عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہے وہیں کچھ مخصوص شعبے بڑے فاتح بن کر سامنے آئے ہیں۔

الجزیرہ ٹی وی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے جنگی حالات کے پیش نظر سال 2026 کے لیے عالمی شرح نمو کی پیشگوئی 3.3 فیصد سے گھٹا کر 3.1 فیصد کر دی ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو 2026 میں عالمی شرح نمو مزید گر کر 2.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ نے جنگی غیر یقینی صورتحال سے اربوں ڈالر کمائے ہیں، جبکہ مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ نے بڑے بینکوں اور سرمایہ کاروں کو بے پناہ فائدہ پہنچایا ہے۔

اس کے علاوہ اسلحہ ساز کمپنیاں جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر منافع کما رہی ہیں اور عالمی سطح پر ہتھیاروں کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جدید جنگ میں مصنوعی ذہانت نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اے آئی پر مبنی جنگی نظام حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھی ہے۔

دوسری جانب، توانائی کے بحران نے دنیا کو متبادل اور گرین انرجی کی طرف راغب کیا ہے، جس سے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کی عالمی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، تاہم سرمایہ کاروں نے اس غیر یقینی صورتحال میں دفاعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو محفوظ ترین سمجھتے ہوئے وہاں رخ کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جدید جنگیں اب محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ معیشت اور ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر جڑی ہوئی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں